بنگلورو،25/جنوری (ایس او نیوز) وزیر برائے محصولات آر اشوک نے ودھان سودھا میں نامہ نگاروں کی ان سے ملاقات کے دوران واضح کیا ہے کہ کانگریس کے دور حکومت میں جو توہم پرستی بل منظوری کے لئے اسمبلی میں پیش کیاتھا اس میں چند ایک ترمیمات کے ذریعہ اسے ریاستی بی جے پی حکومت منظور کرنے آمادہ ہے۔ جب پوچھاگیا کہ کیا نجومیوں،جوتشیوں پر بھی حکومت پابندی عائد کرنے والی ہے تو اشوک نے واضح کیا کہ حکومت نجومیوں جوتشیوں پرپابندی عائد نہیں کررہی ہے۔ جوتش گیان ایک سائنس ہے اور اسے ثابت بھی کیاگیا ہے۔ البتہ جوتش اور علم نجوم کے نام پر جو نقلی جوتش اور نجومی لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ ان کے خلاف کارروائی کرنے قانون بنانے پر غور کیاجارہا ہے۔ جب پوچھاگیا کہ کیا صرف ہندو مذہب میں جاری توہم پرستی کے رواجوں پر پابندی عائد کی جائے گی یا دوسرے مذاہب میں جاری توہم پرستی کے طریقوں پر بھی پابندی عائد کی جائے گی تو اشوک نے واضح کیا کہ اس پر کوئی غور نہیں کیاگیا ہے اس مسئلہ پر بھی کابینہ میں غورکیا جائے گا۔ اشوک نے واضح کہ سدرامیا نے اپنے دور میں جو توہم پرستی بل منظوری کے لئے پیش کیا تھا اس میں دھرم کے معاملات شامل رہنے پر ہم نے اس بل کی مخالفت کی تھی جب کہ بی جے پی توہم پرستی کے رواجوں کی مخالف ہے۔ جہاں تک نجومیوں اور عاملوں کا معاملہ ہے اس پر جے ڈی ایس اور کانگریس ہی زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ انہوں نے طنز کیا کہ کانگریس لیڈر ڈی کے شیوکمار مدھیہ پردیش کے مندر جاکر وہاں ہوماہون وغیرہ کروارہے ہیں۔ یہی نہیں جے ڈی ایس لیڈر دیوے گوڈا اور کمار سوامی ا و ریونا تو ہمیشہ نجومیوں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔ اگر ہماری حکومت نجومیوں پر پابندی لگائے گی تو ان لیڈروں کو پریشانی ہوگی۔ اس لئے ہماری حکومت فی الحال نجومیوں پر کوئی پابندی نہیں لگارہی ہے اور فی الحال دوسرے دھرم کے ماننے والوں کے ہاں جو توہم پرستی کی رسومات ہیں ان پر پابندی پر بھی ابھی غور نہیں کیاگیا ہے۔